حدیث نمبر: 2975
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَعَلَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَيُصَلِّي الْعَصْرَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، ثُمَّ يَسِيرُ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَيَخْرُجُ وَقْتُهَا مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ، ثُمَّ قَالَ حِينَ دَنَا : " إِنَّا نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَبُوكَ فَلَا يَسْبِقُنَا أَحَدٌ إِلَى الْمَاءِ " قَالَ مُعَاذٌ : فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ سَبَقَ إِلَى الْمَاءِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ سَبَقَا إِلَى الْمَاءِ فَاسْتَقَيْنَا فِي قِرْبَتَيْنِ مَعَهُمَا وَكَدُرَ الْمَاءُ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكُمَا أَنْ لَا يَسْبِقَنَا إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ " ، فَدَعَا بِالْقِرْبَتَيْنِ فَصُبَّتَا فِي الْمَاءِ وَدَعَا اللَّهَ فَفَاضَ الْمَاءُ فَقَالَ : " كَأَنَّكَ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ تَرَ مَا هَا هُنَا قَدْ مُلِءَ جِنَانًا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَّا غُصْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ غُصْنًا هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ روانہ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے آپ ظہر کی نماز اس کے آخری وقت میں ادا کرتے تھے ، اور عصر کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرتے تھے پھر آپ روانہ ہو جاتے تھے آپ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب اس کا وقت ختم ہونے والا ہوتا تھا اور شفق ابھی غروب نہیں ہوئی ہوتی تھی اور عشاء کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں اس وقت ادا کر لیتے تھے جب شفق غروب ہو جاتی تھی جب ہم ( تبوک کے ) قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو کل ہم تبوک پہنچ جائیں گے کوئی بھی شخص ہم سے پہلے پانی تک نہ پہنچے سیدنا معاذ بیان کرتے ہیں : میں وہ پہلا فرد تھا جو پانی تک پہنچ گیا لیکن وہاں اس سے پہلے دو افراد پانی تک پہنچ چکے تھے ان دونوں نے اپنے پاس موجود مشکیزوں میں پانی ڈال لیا ہوا تھا اور پانی گدلا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم لوگو کو منع نہیں کیا تھا کہ ہم سے پہلے کوئی شخص پانی تک نہ پہنے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مشکیزوں کو منگوایا اور ان دونوں کے پانی کو ( چشمے کے ) پانی میں ڈال دیا گیا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو پانی پھوٹ پڑا آپ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ایسا ہو گا کہ اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم دیکھو گے کہ یہاں بہت سے باغات بن گئے ہوں گے ۔ ( جو اس پانی سے سیراب ہو کر بنے ہوں گے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ ہیں اور دوسری کتابوں میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابن ثوبان کے حوالے سے اسے صرف غصن بن اسماعیل نے روایت کیا ہے ، اور محمد بن غالب نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو غصن نامی اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف