مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران ، دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى آخِرِ وَقْتِهَا وَصَلَّاهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جب انہوں نے سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنی ہوتی تھیں تو وہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک مؤخر کر کے ادا کر لیتے تھے ، اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیتے تھے وہ مغرب کی نماز کو اس کے آخری وقت میں ادا کر لیتے تھے ، اور عشاء کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیتے تھے ، اور وہ یہ بات بیان کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہوئے ایسا ہی کرتے تھے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔