مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران ، دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
حدیث نمبر: 2973
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ جَمَعَ بَيْنِهِمَا فِي أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ ، كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کر رہے ہوتے تھے ، اور آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو آپ عصر اور ظہر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے ، اور اگر آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے تو آپ عصر کے ابتدائی وقت میں یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے مغرب اور عشاء میں بھی آپ ایسا ہی کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔