مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران ، دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَجَدَّ بِهِ السَّيْرُ فَرَكِبَ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ الْفَيْءُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَيَنْزِلُ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا ، ثُمَّ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَبْدُوَ غُيُوبُ الشَّفَقِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کر رہے ہوتے تھے ، اور آپ نے تیزی سے سفر کرتا ہوتا تھا اور آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہو جاتا تھا تو آپ پڑاؤ کرتے تھے ، اور یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے پھر آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دینے تھے یہاں تک کہ شفق کا غروب ہونا سامنے آ جاتا تھا تو آپ پڑاؤ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، جس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔