مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران ، دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعَشَاءَ فَصَلَّاهَا جَمْعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَارِثِيُّ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مُخْتَصَرًا : كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ بِالْعِبَادَةِ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں آپ نے مغرب کی نماز کو موخر کر دیا تھا اور عشاء کی نماز جلدی ادا کر لی تھی اور ان دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : محمد بن عبدالوہاب حارثی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے
یہ روایت امام بزار نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے محمد بن عبدالوہاب نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور عبادت کے حوالے سے مشہور ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔