حدیث نمبر: 2944
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ : أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ رَاكِبًا أَوْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَالُوا : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ إِنَّ اللَّهَ هَدَانَا بِكُمْ قَالَ : فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلْمَانُ قَالَ : مَا لَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : يَعْنِي السَّفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو لَيْلَى الْكِنْدِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین

ابولیلی کندی بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی بارہ یا شاید تیرہ سواروں کے ہمراہ آئے جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تھا جب نماز کا وقت ہوا تو ان حضرات نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ آگے بڑھیے تو سیدنا سلمان فارسی نے فرمایا : ہم آپ لوگوں کی امامت بھی نہیں کریں گے اور آپ کی خواتین کے ساتھ نکاح بھی نہیں کریں گے بے شک اللہ تعالی نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت عطا کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے چار رکعات پڑھا دیں جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا سلمان نے فرمایا : ہمارا چار رکعات کے ساتھ کیا واسطہ ؟ ہمارے لئے تو چار کا نصف بھی کافی تھا کیونکہ ہمیں رخصت کی زیادہ ضرورت ہے ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ سفر کے دوران ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابولیلی کندی نامی راوی کو یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف