حدیث نمبر: 2931
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ وَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، إِلَّا الْمَغْرِبَ لِأَنَّهَا وِتْرٌ ، وَالصُّبْحَ لِأَنَّهَا يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نماز دو دو فرض کی گئی تھی صرف مغرب کی نماز میں تین رکعت تھیں کیونکہ یہ طاق ہوتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو پہلے والی نماز ( یعنی دو رکعات فرض ) ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ، اور جب آپ مقیم ہوتے تھے تو آپ دو رکعات کے ساتھ مزید دو رکعات ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ طاق ہوتی ہے ، اور صبح کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس میں آپ طویل قرأت کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 2932
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک روایت میں یہ منقول ہے وہ بیان کرتی ہیں : مکہ میں نماز دو دو رکعات کی شکل میں فرض قرار دی گئی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعات کے ساتھ دو رکعات زائد ہو گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2933
وَعَنْ أَحْمَدَ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ : كَانَ أَوَّلُ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا وَذَكَرَ مَعْنَاهُ . ¤ وَرِجَالُهَا كُلِّهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت بھی نقل کی ہے وہ بیان کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز دو دو رکعات کی شکل میں فرض کی تھی صرف مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی تین رکعت تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت بھی نقل کی ہے وہ بیان کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز دو دو رکعات کی شکل میں فرض کی تھی صرف مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی تین رکعت تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2934
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَهَكَذَا ضَبَطْتُهُ مِنَ الْمُسْنَدِ بَعْدَ الْمُرَاجَعَةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اے لوگو بے شک اللہ تعالی نے تمہارے نبی کی زبانی ، حضر کے دوران چار رکعات اور سفر کے دوران دو رکعات فرض قرار دی ہیں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات منقول ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے مراجعت کے بعد ” مسند “ میں سے میں نے
یہ روایت اسی طرح نوٹ کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات منقول ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے مراجعت کے بعد ” مسند “ میں سے میں نے
یہ روایت اسی طرح نوٹ کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2935
وَعَنْ أَبِي الْكَنُودِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ فَقَالَ : رَكْعَتَانِ نَزَلَتَا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ شِئْتُمْ فَرُدُّوهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوکنود بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے سفر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے ارشاد فرمایا : دو رکعات ہیں جو آسمان سے نازل ہوئی ہیں ( یعنی ان کا حکم آسمان سے نازل ہوا ہے ) اگر تم چاہو انہیں واپس کر دو
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2936
وَعَنْ مُورِقٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ : رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ مَنْ خَالَفَ السُّنَّةَ كَفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مورق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے سفر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ دو دو رکعات ہیں جو شخص سنت کے خلاف کرے گا وہ کفر کا مرتکب ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2937
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيِّ ابْنِ أُخْتِ النَّمِرِ قَالَ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سائب بن یزید کندی ، جو نمر کے بھانجے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نماز دو دو رکعات فرض کی گئی تھی پھر حضر کی نماز میں اضافہ ہو گیا اور سفر کی نماز اسی صورت میں برقرار رہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2938
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا أَعَادَ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سفر کے دوران چار رکعات ادا کرتا ہے وہ اپنی نماز کو دہرائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2939
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا قَالَا : سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ هِيَ تَمَامٌ ، وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر کے بارے میں یہ بات منقول ہے : یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران نماز کی دو رکعات مقرر کی ہیں ، اور یہ مکمل ہیں ، اور سفر کے دوران وتر ادا کرنا سنت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2940
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ : وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز خوف میں دو رکعات ادا کی ہیں البتہ مغرب کی نماز کی تین رکعت ادا کی ہیں میں نے سفر کے دوران آپ کے ساتھ دو رکعات ادا کی ہیں ، البتہ مغرب کی نماز میں تین رکعت ادا کی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہونے کے اعتبار سے ہم اس روایت سے صرف اس سند کے حوالے سے واقف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہونے کے اعتبار سے ہم اس روایت سے صرف اس سند کے حوالے سے واقف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2941
وَعَنْ خَلَفِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا ، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِمْ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَخَلَفُ بْنُ حَفْصٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
خلف بن حفص نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کیا ہے ۔ ہمیں شام میں عبدالملک کے پاس لے جایا گیا ہم انصار سے تعلق رکھنے والے چالیس افراد تھے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمارے لئے کوئی حصہ مقرر کرے جب وہ واپس آئے اور ہم لوگ فج ناقہ کے مقام پر موجود تھے تو انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں پھر وہ اپنے خیمے میں چلے گئے لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی دو رکعات کے ساتھ مزید دو رکعات شامل کر لیں تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی ان لوگوں کے چہرے کو قبیح کرے اللہ کی قسم انہوں نے نہ تو سنت کی پیروی کی ہے ، اور نہ ہی رخصت کو قبول کیا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ لوگ دین میں شدت اختیار کریں گے اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے خلف بن حفص کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے خلف بن حفص کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2942
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ . ¤ قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَقِيلِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَا يُحْتَجُّ بِهِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو دو ، دو رکعات ادا کرتے تھے ، اور جب مقیم ہوتے تھے تو چار رکعات ادا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جو شخص سفر کے دوران چار رکعات ادا کرتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے ، جو حضر کے دوران دو رکعات ادا کرتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نماز صرف ایک مرتبہ قصر کی گئی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کی تھیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی عقیلی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی عقیلی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2943
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَا سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا ذِكْرَ الْمَغْرِبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر کرتے تھے تو صرف دو رکعات ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے - ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے مغرب کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے مغرب کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2944
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ : أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ رَاكِبًا أَوْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَالُوا : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ إِنَّ اللَّهَ هَدَانَا بِكُمْ قَالَ : فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلْمَانُ قَالَ : مَا لَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : يَعْنِي السَّفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو لَيْلَى الْكِنْدِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
ابولیلی کندی بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی بارہ یا شاید تیرہ سواروں کے ہمراہ آئے جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تھا جب نماز کا وقت ہوا تو ان حضرات نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ آگے بڑھیے تو سیدنا سلمان فارسی نے فرمایا : ہم آپ لوگوں کی امامت بھی نہیں کریں گے اور آپ کی خواتین کے ساتھ نکاح بھی نہیں کریں گے بے شک اللہ تعالی نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت عطا کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے چار رکعات پڑھا دیں جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا سلمان نے فرمایا : ہمارا چار رکعات کے ساتھ کیا واسطہ ؟ ہمارے لئے تو چار کا نصف بھی کافی تھا کیونکہ ہمیں رخصت کی زیادہ ضرورت ہے ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ سفر کے دوران ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابولیلی کندی نامی راوی کو یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابولیلی کندی نامی راوی کو یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2945
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَصَلَّاهَا بِالْمَدِينَةِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ وَتُرِكَتِ الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ عَلَى حَالِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نماز دو دو رکعات فرض قرار دی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں یہ اسی طرح ادا کی یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جتنے عرصے تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا آپ نے مدینہ میں بھی یہ نمازی اسی طرح ادا کی پھر حضر کی نماز میں دو رکعات کا اضافہ ہو گیا اور سفر کی نماز کو اس کی حالت پر رکھا گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 2946
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، كُلُّهُمْ صَلَّى مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَيْهَا رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسِيرِ وَالْمُقَامِ بِمَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے یہ سب حضرات جب مدینہ منورہ سے نکلتے تھے تو اس وقت سے لے کر وہاں واپس آنے تک سفر کے دوران دو رکعات ادا کرتے تھے ، اور مکہ میں قیام کے دوران بھی ( دو رکعات ادا کرتے تھے )
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعالی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعالی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2947
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَافِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ أَحَادِيثُ فِي الْقَصْرِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرٍو صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کر رہے تھے آپ کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کا خوف نہیں تھا لیکن آپ دو دو رکعات ادا کرتے رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول احادیث قصر سے متعلق باب میں آئیں گی جو اس سیاق کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عمرو ہے ، جو ہروی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عمرو ہے ، جو ہروی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔