مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں سہو ہو جانا
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَامَ فِي صَلَاتِهِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ فَعَرَفَ الَّذِي يُرِيدُونَ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ لِكَيْ أَجْلِسَ وَأَنْ لَيْسَ تِلْكَ السُّنَّةُ ، إِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُقْبَةَ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب ان پر بیٹھنا لازم تھا لوگوں نے سبحان اللہ سبحان اللہ کہا: انہیں لوگوں کے ارادے کا پتہ چل گیا لیکن جب انہوں نے نماز مکمل کی تو دو مرتبہ سجدہ کیا جب وہ بیٹھے ہوئے تھے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے تم لوگوں کو سبحان اللہ کہتے ہوئے سن لیا تھا جو اس لئے تھا کہ میں بیٹھ جاؤں لیکن یہ چیز سنت نہیں ہے سنت وہ ہے ، جو میں نے کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زہری کی سیدنا عقبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ زہری نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔