مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں سہو ہو جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : صَلَّيْتَ خَمْسًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا حَلَقَةٌ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ : " أَحَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ خَالٍ عَنْ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا : کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے پانچ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے ان صاحب کا ہاتھ پکڑا اور آپ مسجد میں تشریف لائے وہاں ایک حلقہ موجود تھا جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذوالیدین جو کہہ رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رُخ کیا پھر آپ نے دو مرتبہ سجدے کیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، جس میں سیدنا ذوالیدین کا واقعہ نقل ہوا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔