حدیث نمبر: 2919
وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ فَقُلْتُ : أُصَلِّي فَلَا أَدْرِي رَكْعَتَيْنِ صَلَّيْتُ أَوْ أَرْبَعًا ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعُرْيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا وَدَخَلَ الْبَيْتَ وَكَانَ فِي الْقَوْمِ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ : " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ" قَالَ : بَلْ نَسِيتَ الصَّلَاةَ قَالَ : فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَحْفَظْ مُحَمَّدٌ سَلَّمَ بَعْدُ أَمْ لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : میں نماز ادا کرتا ہوں ، اور مجھے پتہ نہیں چلتا کہ میں نے دو رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات ادا کی ہیں تو انہوں نے بتایا سیدنا ابوالعریان نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب ایسے تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالیدین کا نام دیا ہوا تھا ۔ سیدنا ذوالیدین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ نہ تو مختصر ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں آپ شاید نماز کو بھول گئے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور پھر اپنے عام سجدوں جتنا یا شاید اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہی اور آپ نے اپنے سر کو اٹھایا محمد نامی راوی کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے بعد میں سلام پھیرا کہ ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔