حدیث نمبر: 2916
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمُ الْعَصْرَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُسَمَّى ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَخَرَجَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا صَلَّوْا مَعَهُ فَقَالَ : "أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "إِنَّهُ زَعَمَ أَنِّي صَلَّيْتُ ثَلَاثًا" قَالُوا : صَدَقَ فَظَنَنَّا أَنَّكَ أُمِرْتَ فِي ذَلِكَ بِأَمْرٍ فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْغَنَوِيُّ الْعَامِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا ) پھر آپ کسی زوجہ محترمہ کے گھر تشریف لے گئے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب جنہیں ذوشمالین کہا: جاتا تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے تین رکعات ادا کی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ ان کا ہاتھ پکڑ کر نکلے اور لوگوں کے پاس تشریف لائے جنہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی آپ نے دریافت کیا : کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی : کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے تین رکعات پڑھائیں ہیں لوگوں نے عرض کی : یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ہم تو یہ سمجھے تھے کہ شاید آپ کو اس بارے میں کوئی حکم دیا گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مزید ایک رکعت پڑھائی اور پھر تشہد کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابان غنوی عامری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً