حدیث نمبر: 2917
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ : أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "كَذَاكَ يَا ذَا الْيَدَيْنِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَرَكَعَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَلَعَلَّهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، لَعَلَّهُ "وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا تو سیدنا ذوشمالین نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ذوالیدین کیا اسی طرح ہے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایک رکعت ادا کی اور دو سجدے کیے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف