حدیث نمبر: 2909
وَعَنْ مَعْدِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ - وَكَانَ ثِقَةً - قَالَ : أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ عَنْ حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَنْفُذُ الْحَدِيثَ مِنَ الْكِبَرِ فَقَالَ ابْنُهُ شُعَيْبٌ : بَلَى يَا أَبَةِ حَدَّثْتَنِي أَنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الْعَصْرُ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : مَا قَصُرَتْ وَلَا نَسِيتُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَقَالَا : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَّابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتِيِ السَّهْوِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ ، وَمُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُ مَقَالَتَهُ قَالَ : كَيْفَ كُنْتَ أَخْبَرْتُكَ ؟ قَالَ : يَا أَبَتَاهُ إِنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خَشَبٍ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِمَّا زَادَهُ فِي الْمُسْنَدِ وَفِيهِ مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین

معدی بن سلیمان جو ایک ” ثقہ“ راوی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں مطیر کے پاس آیا تاکہ ان سے سیدنا ذوالیدین کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کروں میں ان کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ ایک بوڑھے عمر رسیدہ آدمی تھے عمر رسیدگی کی وجہ سے وہ بات پوری نہیں کر پاتے تھے ان کے بیٹے شعیب نے کہا: جی ہاں ! اے ابا جان آپ نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ذی خشب کے مقام پر آپ کی ملاقات سیدنا ذوالیدین سے ہوئی تھی اور انہوں نے آپ کو یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز ان لوگوں کو پڑھاتے ہوئے دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا ( راوی کہتے ہیں : وہ عصر کی نماز تھی ) جلد باز لوگ باہر نکل گئے حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ سیدنا ذوالیدین نے عرض کی : کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ تو یہ مختصر ہوئی ہے ، اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : ذولیدین کیا کہہ رہا ہے ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس گئے لوگ کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مطیر کے صاحبزادے شعیب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اور مطیر اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے اپنے صاحبزادے کے بیان کی تصدیق کی جب انہوں نے دریافت کیا : کہ میں نے تمہیں کیسے بیان کی تھی تو ان کے صاحبزادے نے کہا: اے ابا جان آپ کی ملاقات ذی خشب کے مقام پر سیدنا ذوالیدین سے ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات عبداللہ بن أحمد نے وہاں نقل کی ہیں جو انہوں نے مسند میں زوائد نقل کیے ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی سعدی بن سلیمان ہے ، اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ بزرگ ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف