مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں سہو ہو جانا
وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ وَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عطاء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز ادا کرتے ہوئے دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا پھر وہ اٹھے تاکہ حجر اسود کا استلام کریں تو لوگوں نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے پھر انہوں نے باقی رہ جانے والے نماز ادا کی اور دو مرتبہ سجدہ کیا اس بات کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے ہیں
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔