حدیث نمبر: 2907
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعَتُ أَمْ أَوْتَرْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّايَ ؟ ؟ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَمْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا إِتْمَامُ صَلَاتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ ، وَيَزِيدُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُثْمَانَ وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ وَرِجَالُ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نماز ادا کر رہا تھا مجھے پتہ نہیں چلا کہ کیا میں نے جفت تعداد میں رکعات ادا کر لی ہیں ؟ یا طاق تعداد میں رکعات ادا کی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز سے بچو کہ شیطان تمہاری نماز کے حوالے سے تمہارے ساتھ کھیلے تم میں سے جو شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ کیا اس نے جفت تعداد میں رکعات ادا کی ہیں یا طاق تعداد میں ادا کی ہیں ؟ تو اسے ۔ دو مرتبہ سجدہ کر لینا چاہیے یہ دونوں اس کی نماز کو کمل کر دیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے یزید نامی راوی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس راوی سے اس کے بیٹے عبداللہ نے روایت نقل کی ہے ، اس نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے مردان کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کی مانند روایت نقل کی ہے : ان دونوں طرق کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح