مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَصَلَاةِ الْجَالِسِ . باب: بیمار شخص کی نماز اور بیٹھے ہوئے شخص کی نماز
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَرَآهُ يُصَلِّي وَيَسْجُدُ عَلَى وِسَادَةٍ فَنَهَاهُ وَقَالَ : " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ وَإِلَّا فَأَوْمَى إِيمَاءً وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَرَمَى بِهَا فَأَخَذَ عُودًا يُصَلِّي عَلَيْهِ فَرَمَى بِهِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیار کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہا تھا اور تکیہ پر سجدہ کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ، تو سجدہ کر لو ورنہ اشارہ کر لو اور ( اشارہ کرتے ہوئے ) سجدے میں رکوع سے زیادہ جھک جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کرنے کے لئے گئے آپ نے اسے ایک تکیہ پر نماز ادا کرتے ہوئے ( یعنی تکیہ پر سجدہ کرتے ہوئے ) ملاحظہ فرمایا تو تکیہ کو ایک طرف کر دیا وہ شخص لکڑی پکڑ کر اس کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا تو آپ نے اسے بھی ایک طرف کر دیا “ ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔