حدیث نمبر: 2893
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ، وَإِذَا انْصَرَفَ الْمُنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَقِلْ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ قَالَتِ النَّارُ : يَا وَيْحَ هَذَا أَعَجَزَ أَنْ يَسْتَجِيرَ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ ! ! وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَا وَيْحَ هَذَا أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ! ! وَقَالَتِ الْحُورُ الْعَيْنِ : أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ أَنْ يُزَوِّجَهُ مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ ! ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب نماز کھڑی ہوتی ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، جب نماز سے فارغ ہونے والا شخص نماز سے فارغ ہوتا ہے ، اور یہ نہیں پڑھتا : ” اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما اور مجھے جنت میں داخل کر دے اور میری شادی حورعین کے ساتھ کروا دے “ ۔ تو جہنم یہ کہتی ہے ، اس شخص کا ستیاناس ہو کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا کہ یہ جہنم سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اور جنت یہ کہتی ہے ، اس شخص کا ستیاناس ہو جو اس بات سے عاجز آ گیا کہ وہ اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرے اور حورعین کہتی ہے یہ شخص اس بات سے عاجز آ گیا کہ یہ اللہ تعالی سے یہ دعا کرے کہ اللہ تعالی اس کی شادی حورعین کے ساتھ کروا دے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصہ عکاشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف