مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَصَلَاةِ الْجَالِسِ . باب: بیمار شخص کی نماز اور بیٹھے ہوئے شخص کی نماز
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى عُودٍ فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْعُودِ فَأَوْمَى إِلَيْهِ فَطَرَحَ الْعُودَ وَأَخَذَ وِسَادَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهَا عَنْكَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ وَإِلَّا فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِنْقَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنْ أَحْمَدَ فِي تَوْثِيقِهِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ ضَعَّفَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک بیمار شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس پہنچے تو وہ ایک لکڑی کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا وہ اپنی پیشانی لکڑی پر رکھ دیتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کیا تو اس نے لکڑی ایک طرف کر دی پھر اس نے تکیہ لے لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا اسے چھوڑ دو اگر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ، تو ٹھیک ہے ورنہ تم اشارہ کر لو اور سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان بن منقری ہے اور وہ متروک ہے ، اس کی توثیق کے بارے میں امام أحمد سے مختلف روایات منقول ہیں صحیح روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔