مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ عَلَّامَةِ قَبُولِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی قبولیت کی علامت
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّلَاةُ ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ : الطَّهُورُ ثُلُثٌ ، وَالرُّكُوعُ ثُلُثٌ ، وَالسُّجُودُ ثُلُثٌ ، فَمَنْ أَدَّاهَا بِحَقِّهَا قُبِلَتْ مِنْهُ وَقُبِلَ مِنْهُ سَائِرُ عَمَلِهِ وَمَنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاتُهُ رُدَّ عَلَيْهَا سَائِرُ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ قُلْتُ : وَالْمُغَيَّرَةُ ثِقَةٌ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَيُسِيءُ رُكُوعَهَا . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے تین حصے ہوتے ہیں طہارت ایک تہائی حصہ ہے رکوع ایک تہائی حصہ ہے ، اور سجدہ ایک تہائی حصہ ہے ، جو شخص نماز کے حق کے ہمراہ اس کو ادا کرتا ہے ، اس کی طرف سے نماز قبول ہوتی ہے ، اور اس شخص کے دیگر تمام اعمال بھی قبول ہوتے ہیں ، اور جس شخص کی نماز مسترد کر دی جائے اس کے دیگر تمام اعمال بھی مسترد کر دیے جاتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق یہ روایت ” مرفوع “ ہونے کے طور پر صرف مغیرہ بن مسلم سے منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغیرہ نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے متعلق احادیث پہلے گزر چکی ہیں جو اس شخص کے متعلق باب میں گزری ہیں جو نماز مکمل نہیں کرتا اور رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ۔