مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ عَلَّامَةِ قَبُولِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی قبولیت کی علامت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِنَّمَا أَتَقَبَّلُ الصَّلَاةَ مِمَّنْ تَوَاضَعَ بِهَا لِعَظَمَتِي وَلَمْ يَسْتَطِلْ عَلَى خَلْقِي وَلَمْ يَبِتْ مُصِرًّا عَلَى مَعْصِيَتِي، وَقَطَعَ نَهَارَهُ فِي ذِكْرِي، وَرَحِمَ الْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالْأَرْمَلَةَ وَرَحِمَ الْمُصَابَ، ذَلِكَ نُورُهُ كَنُورِ الشَّمْسِ أَكَلَؤُهُ بِعِزَّتِي وَأَسْتَحْفِظُهُ مَلَائِكَتِي أَجْعَلُ لَهُ فِي الظُّلْمَةِ نُورًا وَفِي الْجَهَالَةِ حِلْمًا وَمَثَلُهُ فِي خَلْقِي كَمَثَلِ الْفِرْدَوْسِ فِي الْجَنَّةِ" . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقَدٍ الْحَرَّانَيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالْبُخَارِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میں اس نماز کو قبول کرتا ہوں جو اس شخص کی نماز ہو جو نماز کے ذریعے میری عظمت کے سامنے تواضع کا اظہار کرتا ہے ، اور میری مخلوق کے سامنے خود کو نمایاں نہیں کرتا اور میری معصیت پر اصرار نہیں کرتا وہ اپنا دن میرے ذکر میں گزارتا ہے وہ مسکین مسافر بیوہ عورت پر رحم کرتا ہے مصیبت زدہ پر رحم کرتا ہے وہ ایسی نماز ہے ، جس کا نور سورج کے نور کی مانند ہو گا ، اور اپنی عزت کی قسم ! میں اسے سنبھال کے رکھوں گا ، اور میرے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے میں اس شخص کے لئے تاریکی میں نور بنا دوں گا ، اور جہالت میں بردباری بنا دوں گا میری مخلوق میں اس شخص کی مثال جنت میں فردوس کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن واقد حرانی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ ابراہیم جو زجانی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ سچائی کی تحقیق کرتا تھا انہوں نے اس شخص کا انکار کیا ہے ، جو اس کے بارے میں کلام کرتا ہے ، اور اس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔