مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ . باب: نماز ختم کرنا
وَعَنْ بِسِطَامٍ عَنْ أَعْرَابِيٍّ تَضَيَّفَهُمْ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَبِسِطَامٌ هَذَا هُوَ بِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ، كَذَا ذَكَرَهُ الْأُسْتَاذُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ تِلْمِيذِهِ عَمْرِو بْنِ فَرُّوخَ وَكَانَ الشَّرِيفُ الْحُسَيْنِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ظَنَّ أَنَّهُ بِسِطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ فَلَمْ يَذْكُرْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَ رِوَايَتَهُ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ كَمَا هُنَا . ¤بسطام نے ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، جو ان کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے تھے کہ اس دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ( یعنی دونوں طرف ) سلام پھیرا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بسطام نامی یہ راوی بسطام بن نضر ہے ، استاد جمال الدین مزی نے ان کے شاگرد عمرو بن فروغ کے حالات میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے یہ شریف الحسینی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید بسطام بن مسلم ہے انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں بسطام بن نضر کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور انہوں نے ان صاحب کی دیہاتی کے حوالے سے نقل کردہ یہ روایت اسی طرح ذکر کی ہے ، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے ۔