مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ التَّشَهُّدِ فَقَالَ : أُعَلِّمُكَ كَمَا عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّشَهُّدَ حَرْفًا حَرْفًا : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الدَّارِسِيُّ ، كَذَّبَهُ الْأَزْدِيُّ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤ابوراشد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سلمان فارسی سے تشہد کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس کی تعلیم اسی طرح دوں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے کلمات کی تعلیم دی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد کے ایک ایک حرف کی تعلیم دی تھی ( اس کے کلمات یہ ہیں : ) ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبیداللہ دارسی ہے ، جسے ازدی نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔