مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَلَمَّا صَلَّى ضَرَبَ بِيَدِهِ فَخِذِي فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ تَحِيَّةَ الصَّلَاةِ كَمَا كَانَ يُعَلِّمُنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَتَلَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " التَّحِيَّاتُ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَبَرَكَاتُهُ " . ¤عبداللہ بن بابی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کے پہلو میں نماز ادا کی جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے زانوں پر مارا اور بولے : کیا میں تمہیں نماز کی تحیت کی تعلیم نہ دوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی تعلیم دی تھی ؟ پھر انہوں نے یہ کلمات پڑھ کر سنائے ۔ ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” اور اس کی برکتیں“ ۔