حدیث نمبر: 2864
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْفَرِيضَةِ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْنَا مِنْهُ وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْنَا مِنْهُ وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مَا سَأَلَكَ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ وَنَسْتَعِيذُ بِكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرَ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا وَفِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فرض نماز میں تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں خواہ وہ جلدی ہو یا تاخیر سے ہو ہمیں اس کا علم ہو یا ہمیں اس کا علم نہ ہو اور ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ جلدی ہو یا تاخیر سے ہو خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا علم نہ ہو اے اللہ ! ہم تجھ سے ہر اس چیز کا سوال کرتے ہیں جو چیز تیرے نیک بندوں نے تجھ سے مانگی ہے ، اور تجھ سے ہر اس چیز کی پناہ مانگتے ہیں جس چیز سے تیرے نیک بندوں نے تجھ سے پناہ مانگی ہو اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت نصیب فرمانا اے ہمارے پروردگار تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا کرنا اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی کا شکار نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یا شاید راوی کہتے ہیں ) اس کے بعد آدمی دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیر دے گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2864
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا, قال الهيثمي:رواه الطبراني في الكبير والأوسط، وفيه خاصب بن جحدر (أو حصين بن عمر)، وهو متروك (2/142)