مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ . باب: ( آدمی ) رکوع اور سجدے میں کیا پڑھے گا ؟
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَأَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا وَالْبَزَّارُ - قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " فَقَطْ - وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجَمِيعِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے میں قرأت کروں جب تم لوگ رکوع کرو تو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرو اور جب تم سجدہ کرو تو اہتمام کے ساتھ دعا مانگو یہ اس لائق ہو گا کہ وہ تمہارے لئے قبول ہو“ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ مذکور ہے : ” مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع اور سجدے میں قرأت کروں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق بن حارث ہے ، اور تمام حضرات کے نزدیک وہ ” ضعیف “ ہے ۔