مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ . باب: ( آدمی ) رکوع اور سجدے میں کیا پڑھے گا ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ كَانَ يُكَبِّرُ إِذَا قَرَأَهَا وَيَرْكَعُ وَيَقُولُ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِ الثَّلَاثَةِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَمَّادًا وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اس کو پڑھتے تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے تھے ، اور یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تینوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابوعبیدہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف حماد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔