مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَنَسِيَ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا وَالْقِرَاءَةَ فِيهَا قَالَتْ : حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنِي ثُمَّ أُصْعِدَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَلَهَا ضَوْءٌ وَنُورٌ وَفُتِّحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَإِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْعَبْدُ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالْقِرَاءَةَ قَالَتْ : ضَيَّعَكَ اللَّهُ كَمَا ضَيَّعْتَنِي ثُمَّ أُصْعِدَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَعَلَيْهَا ظُلْمَةٌ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ثُمَّ تُلَفُّ كَمَا يُلَفُّ الثَّوْبُ الْخَلَقُ ، ثُمَّ ضُرِبَ بِهَا وَجْهُ صَاحِبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَالْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بندہ وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور اس کے رکوع اور سجود اور اس میں قرأت کو مکمل کرے تو وہ نماز یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے میری حفاظت کی ہے پھر اس نماز کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے ، تو اس کی روشنی اور نور ہوتا ہے ، اس نماز کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور جب بندہ اچھی طرح سے وضو نہیں کرتا ہے رکوع سجود اور قرآءت کو مکمل نہیں کرتا ہے ، تو نماز یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اسی طرح ضائع کر دے جس طرح تم نے مجھے ضائع کیا ہے پھر اس نماز کو آسمان کی طرف بلند کیا جاتا ہے ، تو اس پر تاریکی طاری ہوتی ہے ، اور آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر اس نماز کو یوں لپیٹا جاتا ہے ، جس طرح پرانے کپڑے کو لپیٹا جاتا ہے ، اور پھر اس نماز کو پڑھنے والے شخص کے منہ پر مار دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، جسے علی بن مدینی اور عجلی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔