مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَنَسِيَ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى عُمَرَ رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ : مَنْ يَعْرِفُ هَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ لَأَمَرَتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أُتِيَ بِذُنُوبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ وَعَاتِقَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَسَجَدَ تَسَاقَطَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجَمَاعَةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤ وَفِي هَذَا النَّوْعِ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤زید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر نے سیدنا عمر کو دیکھا کہ سیدنا عمر نے ایک نوجوان کو دیکھا جو نماز ادا کر رہا تھا اور طویل نماز ادا کر رہا تھا اور اسے کھینچ رہا تھا انہوں نے دریافت کیا : کون شخص اس سے واقف ہے ، تو ایک شخص بولا: میں تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے کہا: اگر میں اس شخص سے واقف ہوتا تو میں اسے یہ ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدے کو طویل ادا کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بندہ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں تو جب بھی وہ رکوع میں جاتا ہے یا سجدے میں جاتا ہے ، تو وہ گناہ گر جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث بیان کرتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ایک جماعت یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث نماز کی فضیلت سے متعلق بات میں آئیں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔