مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَنَسِيَ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
وَعَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَأَى رَجُلَيْنِ يُصَلِّيَانِ ؛ أَحَدَهُمَا مُسْبِلَ إِزَارِهِ وَالْآخَرُ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَضَحِكَ فَقَالُوا : مَا يُضْحِكُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : عَجِبْتُ لِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ أَمَّا الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ فَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ صَلَاتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَتَادَةَ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤قتادہ یا شاید کسی اور کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان دونوں میں سے ایک نے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا اور دوسرا رکوع اور سجود مکمل ادا نہیں کر رہا تھا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن آپ کس بات پر ہنسے ہیں انہوں نے فرمایا : مجھے ان دو آدمیوں پر حیرانگی ہو رہی ہے جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جس نے اپنے تہبند کو لٹکایا ہوا ہے اللہ تعالی اس کی طرف نظر نہیں کرے گا ، اور جہاں تک دوسرے شخص کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالی اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور قتادہ کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔