مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بیان
وَعَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، - قَالَ نَافِعٌ : أَرَاهَا حَفْصَةَ - أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهَا قَالَ : فَقِيلَ : أَخْبِرِينَا بِهَا قَالَ : فَقَرَأَتْ قِرَاءَةً تَرَسَّلَتْ فِيهَا قَالَ : فَحَكَى لَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، ثُمَّ قَطَعَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ثُمَّ قَطَعَ ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ ، نافع نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، اس سے مراد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں ، ان زوجہ محترمہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہو ان سے کہا: گیا آپ ہمیں اس کے بارے میں بتا تو دیں راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے قرأت کی انہوں نے آرام آرام سے تلاوت کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ابن ابوملیکہ نے ہمارے سامنے وہ تلاوت سے پہلے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھا پھر رک گئے الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھا پھر رک گئے پھر مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ پڑھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔