حدیث نمبر: 2614
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا . ¤ قَالَ : فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُؤُسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا : مَنِ الَّذِي رَفَعَ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتِ ؟ " فَقِيلَ : هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ہم اس وقت صف میں موجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے وہ شخص صف میں شامل ہوا اور اس نے کہا: ” اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، جو بڑائی والا ہے ، اور صبح و شام میں اللہ تعالی کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں نے اپنے سر اٹھا کر اس شخص کے سامنے ناگواری کا اظہار کیا مسلمانوں نے یہ کہا: یہ کون شخص ہے ، جو اللہ کے رسول کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کر رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بلند آواز والا شخص کون ہے ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں نے تمہارے کلام کو دیکھا کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوا یہاں تک کہ اس کے لئے دروازہ کھولا گیا تو وہ اس میں داخل ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔