مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا يَسْتَفْتِحُ بِهِ الصَّلَاةَ . باب: نماز کا آغاز کس چیز سے کیا جائے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مَلْءَ السَّمَاءِ وَسَبَّحَ وَدَعَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَائِلُهُنَّ ؟ " فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَلْقَى بِهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ اخْتَلَطَ ، وَلَكِنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ ، وَحَمَّادٌ سَمِعَ مِنْهُ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ - قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ فِيمَا رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْآجُرِّيُّ عَنْهُ - وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَيَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ الْعَامِرِيُّ وَأَبُوهُ ثِقَتَانِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ایک شخص نے نماز میں داخل ہونے کے بعد یہ پڑھا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو آسمان کو بھر دے اس نے سبحان اللہ کے کلمات بھی اس کی مانند کہے ، اور دعا بھی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کلمات کو کہنے والا شخص کون ہے ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس کو لے کر ایک دوسرے کو مل رہے تھے ( یا وہ ایک دوسرے کو یہ کلمات پکڑا رہے تھے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، اور اختلاط کا شکار ہے ، اور حماد بن سلمہ نے اسے عطاء کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ حماد نے ان سے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے سماع کیا تھا ابوعبید آجری نے ان کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے ، اس کے بارے میں امام ابوداؤد نے یہ بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حماد بن سلمہ کے حوالے سے یعلی بن عطاء کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے یعلی بن عطاء عامری اور اس کے والد دونوں ” ثقہ “ ہیں ۔