حدیث نمبر: 2430
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ : " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ " فَخَشَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ حِبَرَةُ بْنُ نَجْمٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز کے دوران دائیں بائیں توجہ کر لیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” مؤمنین کامیاب ہو گئے وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں “ ۔ تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خشوع کے ساتھ رہتے تھے ، اور دائیں بائیں توجہ نہیں دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : حبرہ بن نجم اسکندرانی نامی رادی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف