حدیث نمبر: 2429
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَلْتَفِتُوا فِي صَلَاتِكُمْ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتََفِتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ يَحْيَى فِي رِوَايَةِ الْكَبِيرِ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، وَفِي رِوَايَةِ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ الصَّلْتُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ وَهْمٌ، وَإِنَّمَا هُوَ الصَّلْتُ بْنُ طَرِيفٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : حَدِيثُهُ مُضْطَرِبٌ فِيهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے دوران ادھر اُدھر نہ دیکھو کیونکہ ادھر اُدھر دیکھنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن یحیی ہے ، جو امام طبرانی کی معجم کی روایت میں ہے ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے معجم صغیر اور معجم اوسط کی روایت میں ایک راوی صلت بن ثابت ہے ، اور یہ وہم ہے یہ شخص اصل میں صلت بن طریف ہے ۔ امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے انہوں نے اس کے حوالے سے پہ حدیث ذکر کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف