مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْهَى عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: نماز کے دوران ہنسنے یا اِدھر اُدھر دیکھنے یا اس طرح کے دیگر امور جن سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2431
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَدَعَا رَبَّهُ إِلَّا كَانَتْ دَعْوَتُهُ مُسْتَجَابَةً مُعَجَّلَةً أَوْ مُؤَخَّرَةً، إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ؛ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُوا فِي الْفَرِيضَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : عَطَاءُ بْنُ عِجْلَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعات ادا کرے اور اپنے پروردگار سے دعا کرے تو اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے خواہ جلدی ہو جائے یا ذرا تاخیر سے ہو اور تم لوگ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچ کے رہو کیونکہ ادھر اُدھر توجہ کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے اگر مجبور ہو جاؤ تو نفل میں ایسا کر لو لیکن فرض میں ایسا نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔