کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نماز کے دوران ہنسنے یا اِدھر اُدھر دیکھنے یا اس طرح کے دیگر امور جن سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2424
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الضَّاحِكَ فِي الصَّلَاةِ وَالْمُلْتَفِتَ وَالْمُفَقَّعَ أَصَابِعِهِ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نماز کے دوران ہنسنے والا ادھر ادھر دیکھنے والا انگلیاں چٹخانے والا ایک ہی شخص کے حکم میں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے یہ روایت زبان بن فائد سے منقول ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے یہ روایت زبان بن فائد سے منقول ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2425
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ نَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ ، وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کا حکم دیا تھا اور مجھے تین باتوں سے منع کیا تھا آپ نے مجھے مرغ کے ٹھونگا مارنے کی طرح ٹھونگا مارنے سے ، کتے کے اقعاء کے طور پر بیٹھنے کی طرح اقصاء کے طور پر بیٹھنے سے اور لومڑی کے ادھر ادھر دیکھنے کی طرح ادھر اُدھر دیکھنے سے منع کیا تھا
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2426
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَإِذَا الْتَفَتَ قَالَ : يَابْنَ آدَمَ إِلَى مَنْ تَلْتَفِتُ ؟ إِلَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنِّي ؟ أَقْبِلْ إِلَيَّ فَإِذَا الْتَفَتَ الثَّانِيَةَ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا الْتَفَتَ الثَّالِثَةَ صَرَفَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجْهَهُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، جب وہ شخص اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالی فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم کس کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ کیا وہ کوئی ایسا ہے ، جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہے ؟ تم میری طرف متوجہ رہو جب وہ شخص دوسری مرتبہ ادھر اُدھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ پھر اس کی مانند ارشاد فرماتا ہے ، جب وہ شخص تیسری مرتبہ ادھر ادھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالٰی اس سے اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 2427
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - : فَإِنَّمَا هُوَ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَإِذَا الْتَفَتَ يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِلَى مَنْ تَلْتَفِتُ ؟ إِلَى خَيْرٍ مِنِّي ؟ أَقْبِلْ يَابْنَ آدَمَ إِلَيَّ فَأَنَا خَيْرٌ مِمَّنْ تَلْتَفِتُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخَوْزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) رحمان کے سامنے ہوتا ہے ، جب وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم کس کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ کیا مجھ سے بہتر کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ اے ابن آدم ! میری طرف متوجہ رہو ! کیونکہ میں ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہوں جس کی طرف تم دیکھتے ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2428
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيُقْبَلْ عَلَيْهَا حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، وَإِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو تو نماز سے فارغ ہونے تک وہ نماز کی طرف متوجہ رہے تم لوگ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرو کیونکہ آدمی جب تک نماز کی حالت میں ہوتا ہے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2429
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَلْتَفِتُوا فِي صَلَاتِكُمْ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتََفِتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ يَحْيَى فِي رِوَايَةِ الْكَبِيرِ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، وَفِي رِوَايَةِ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ الصَّلْتُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ وَهْمٌ، وَإِنَّمَا هُوَ الصَّلْتُ بْنُ طَرِيفٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : حَدِيثُهُ مُضْطَرِبٌ فِيهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے دوران ادھر اُدھر نہ دیکھو کیونکہ ادھر اُدھر دیکھنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن یحیی ہے ، جو امام طبرانی کی معجم کی روایت میں ہے ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے معجم صغیر اور معجم اوسط کی روایت میں ایک راوی صلت بن ثابت ہے ، اور یہ وہم ہے یہ شخص اصل میں صلت بن طریف ہے ۔ امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے انہوں نے اس کے حوالے سے پہ حدیث ذکر کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن یحیی ہے ، جو امام طبرانی کی معجم کی روایت میں ہے ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے معجم صغیر اور معجم اوسط کی روایت میں ایک راوی صلت بن ثابت ہے ، اور یہ وہم ہے یہ شخص اصل میں صلت بن طریف ہے ۔ امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے انہوں نے اس کے حوالے سے پہ حدیث ذکر کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2430
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ : " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ " فَخَشَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ حِبَرَةُ بْنُ نَجْمٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز کے دوران دائیں بائیں توجہ کر لیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” مؤمنین کامیاب ہو گئے وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں “ ۔ تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خشوع کے ساتھ رہتے تھے ، اور دائیں بائیں توجہ نہیں دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : حبرہ بن نجم اسکندرانی نامی رادی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : حبرہ بن نجم اسکندرانی نامی رادی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2431
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَدَعَا رَبَّهُ إِلَّا كَانَتْ دَعْوَتُهُ مُسْتَجَابَةً مُعَجَّلَةً أَوْ مُؤَخَّرَةً، إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ؛ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُوا فِي الْفَرِيضَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : عَطَاءُ بْنُ عِجْلَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعات ادا کرے اور اپنے پروردگار سے دعا کرے تو اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے خواہ جلدی ہو جائے یا ذرا تاخیر سے ہو اور تم لوگ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچ کے رہو کیونکہ ادھر اُدھر توجہ کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے اگر مجبور ہو جاؤ تو نفل میں ایسا کر لو لیکن فرض میں ایسا نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2432
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَالْتَفَتَ رَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، اور ادھر ادھر دیکھتا ہے اللہ تعالی اس کی نماز مسترد کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2433
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ بِوَجْهِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ أَوْ يُحْدِثْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے ، جب تک بندہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ، یا اسے حدث لاحق نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2434
وَعَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي يَقُولُ : " خَفِّفْ فَإِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً " ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : هُوَ مِثْلُ أَخِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نماز ادا کر رہا تھا میرے پیچھے سے کسی صاحب نے کہا: مختصر نماز ادا کرنا ، کیونکہ ہمیں تم سے ایک کام ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ زید بن اسلم ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم اور معن بن عیسیٰ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنے بھائی کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ زید بن اسلم ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم اور معن بن عیسیٰ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنے بھائی کی مانند ہے ۔