مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ . باب: امام کی متابعت کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ هَا هُنَا فَكَانَ النَّاسُ يَضَعُونَ رُؤُسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَضَعَ رَأْسَهُ وَيَرْفَعُونَ رُؤُسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ لِمَ تَأْتَمُّونَ وَتُؤْتَمُّونَ ؟ صَلَّيْتُ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَخْرِمُ عَنْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ شَيْخٌ لِأَبِي نُعَيْمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہاں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے لوگ ان کے سر رکھنے سے پہلے اپنے سر رکھ رہے تھے ، اور ان کے سر کو اٹھانے سے پہلے اپنے سر اٹھا رہے تھے جب انہوں نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بولے : اے لوگو ! تم لوگوں نے امام کیوں مقرر کیا ہے ، اور تم کیوں مقتدی بنے ہو میں تم لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہوں ، اور میں اس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کر رہا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ انصاری ہے ، جو ابونعیم کا استاد ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔