حدیث نمبر: 2406
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ قَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ ، تَعَلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا ؟ قَالَ : " اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ قَالَ أَحْمَدُ : حَدِيثُهُ يُشْبِهُ حَدِيثَ أَهْلِ الصِّدْقِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَدِيثُهُ يَحْمِلُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی وہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع میں جانے سے پہلے رکوع میں چلا جاتا تھا اور آپ کے اٹھنے سے پہلے اٹھ جاتا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : ایسا کس شخص نے کیا ہے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ، میں یہ چاہتا تھا کہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ آپ کو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نہیں چلتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نماز کے نقص سے بچ کے رہو جب امام رکوع میں جائے تو تم رکوع میں جاؤ جب وہ رکوع سے اٹھے تو تم لوگ اٹھو !
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث اہل صدق کی نقل کردہ حدیث سے مشابہت رکھتی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حدیث کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ ملا دیتا ہے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث اہل صدق کی نقل کردہ حدیث سے مشابہت رکھتی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حدیث کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ ملا دیتا ہے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2407
وَعَنِ ابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجَيْشِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ فَمَنْ فَاتَهُ رُكُوعِي أَدْرَكَهُ فِي بُطْءِ قِيَامِي ، أَوْ بَطِيءِ قِيَامِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الَّذِي رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعَدَةَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَأَكْثَرُ رِوَايَتِهِ عَنِ التَّابِعِينَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن مسعدہ صاحب الجیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میرا جسم بھاری ہو گیا ہے ، تو جس شخص سے میرا رکوع رہ جائے تو وہ میرے کھڑے ہونے تک اس کو پا لے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ) راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں تاہم سیدنا ابن مسعدہ رضی اللہ عنہ سے اس کو نقل کرنے والا راوی عثمان بن ابوسلیمان ہے ، اس نے زیادہ تر روایات تابعین سے نقل کی ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں تاہم سیدنا ابن مسعدہ رضی اللہ عنہ سے اس کو نقل کرنے والا راوی عثمان بن ابوسلیمان ہے ، اس نے زیادہ تر روایات تابعین سے نقل کی ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2408
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى يَتَمَكَّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السُّجُودِ [ أَوْ قَالَ : مِنَ ِالْأَرْضِ يَسْجُدُ عِنْدَ ذَلِكَ ] . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے اپنی پشت سیدھی کرتا تھا تو اتنی دیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں مکمل طور پر جا چکے ہوتے تھے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں زمین تک پہنچ چکے ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2409
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَجَدَ لَمْ يَسْجُدْ أَحَدٌ مِنَّا حَتَّى يَرَاهُ قَدْ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِي حَدِيثِ الْبَزَّارِ : سَعِيدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ غَيْرُهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي يَعْلَى مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْأَعْمَشِ وَأَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی ایک اس وقت تک سجدہ نہیں کرتا تھا جب تک وہ آپ کو دیکھ نہیں لیتا تھا کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام بزار کی روایت میں ایک راوی سعید بن مفضل ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام ابویعلیٰ کی نقل کردہ روایت اعمش اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام بزار کی روایت میں ایک راوی سعید بن مفضل ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام ابویعلیٰ کی نقل کردہ روایت اعمش اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 2410
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے ، اور آپ سمعع اللہ لمن حمدہ پڑھ کر ( رکوع سے کھڑے ہو جاتے تھے ) تو ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی پشت کو اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں لیتا تھا کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2411
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ فَلَا تُبَادِرُونِي بِالْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرا جسم بھاری ہو چکا ہے ، تو تم نماز میں قیام رکوع اور سجدے میں مجھ سے آگے نہ نکلو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2412
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْبِقُوا إِمَامَكُمْ بِالرُّكُوعِ فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَهُ بِمَا سَبَقَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم رکوع میں اپنے امام سے سبقت نہ لے جاؤ کیونکہ تم لوگ اس کے پاس اس وقت پہنچ جاؤ گے جب وہ تم سے آگے جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2413
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قُمْتُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا تَسْبِقُوا قَارِئَكُمْ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ ، وَلَكِنْ لِيَسْبِقَكُمْ قَارِئُكُمْ تُدْرِكُونَ مَا سَبَقَكُمْ بِهِ فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ هُوَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ قَبْلَكُمْ فَتُدْرِكُونَ قَارِئَكُمْ بِهِ حِينَئِذٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم نماز میں کھڑے ہو ، تو رکوع سجدے اور قیام میں اپنے قاری ( یعنی امام ) سے آگے نہ نکلو بلکہ تمہارے قاری ( یعنی امام ) کو تم سے پہلے کام کرنا چاہیے وہ تم سے پہلے جس میں معاملے میں چلا جائے گا تم اس تک پہنچ جاؤ گے جب وہ رکوع یا سجود سے سر اٹھا رہا ہو گا یا قیام کر رہا ہو گا ، تو وہ جو بھی تم سے پہلے کرے گا تم اس وقت اپنے قاری کے پاس پہنچ جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2414
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب امام تکبیر کہے ، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2415
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الَّذِي يُخَفِّضُ وَيَرْفَعُ قَبْلَ الْإِمَامِ إِنَّمَا نَاصِيَتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص امام سے پہلے جھکتا ہے یا اٹھتا ہے ، اس کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2416
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُؤَمَّنُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ كَلْبٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " رَأْسَ كَلْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے کیا وہ اس بات سے محفوظ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے سر کو ، کتے کے سر سے تبدیل کر دے ؟ “ میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” کتے کا سر “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2417
وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَهُ أَيْضًا : " الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ وَيَضَعُهُ " . ¤ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ ثِقَاتٌ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ الْعَبَّاسَ بْنَ الرَّبِيعِ بْنِ تَغْلِبَ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ” وہ شخص جو امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے ، یا رکھتا ہے “ ۔ پہلی روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف امام طبرانی کے استاد عباس بن ربیع بن تغلب کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2418
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَلَا تَسْبِقُوهُ إِذَا رَكَعَ وَلَا إِذَا رَفَعَ وَلَا إِذَا سَجَدَ، فَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا بِكُمْ أَنْ تُدْرِكُوا مَا سَبَقَكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَتَدَرَكُوا ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ تم اس سے سبقت نہ لے جاؤ جب وہ رکوع میں جائے یا سر کو اٹھائے یا سجدے میں جائے کیونکہ اگر تم اس حالت میں ہو گے ، تو تم اس تک اس وقت پہنچ جاؤ گے جس میں وہ تم سے سبقت لے جا چکا ہو گا وہ تم سے پہلے سجدہ کرے اور تم سے پہلے سر کو اٹھائے گا ، تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2419
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا كَنْتَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَا تَرْكَعْ حَتَّى يَرْكَعَ وَلَا تَسْجُدْ حَتَّى يَسْجُدَ وَلَا تَرْفَعْ رَأْسَكَ قَبْلَهُ، وَإِذَا فَرَغَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَقُمْ وَلَمْ يَنْحَرِفْ وَكَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَاذْهَبْ وَدَعْهُ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم امام کے پیچھے ہو ، تو تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہیں کر لیتا اور اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک وہ سجدہ نہیں کر لیتا اور تم اس سے پہلے اپنے سر کو نہ اٹھاؤ جب امام ( نماز ادا کر کے ) فارغ ہو چکا ہو اور نہ ہی وہ اٹھا ہو اور نہ ہی وہ اپنی جگہ سے مڑا ہو اور تمہیں کوئی کام ہو ، تو تم چلے جاؤ اور اسے چھوڑ دو کیونکہ تمہاری نماز مکمل ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2420
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَعُودَ رَأْسُهُ رَأْسَ كَلْبٍ، وَلَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ مِنْهَا إِسْنَادٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے کیا وہ اس بات سے ( خود کو ) محفوظ سمجھتا ہے کہ اس کے سر کو کتے کے سر میں تبدیل کر دیا جائے لوگ اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے یا تو باز آ جائیں گے یا ان کی بینائی اچک لی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ اسناد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ اسناد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2421
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ هَا هُنَا فَكَانَ النَّاسُ يَضَعُونَ رُؤُسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَضَعَ رَأْسَهُ وَيَرْفَعُونَ رُؤُسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ لِمَ تَأْتَمُّونَ وَتُؤْتَمُّونَ ؟ صَلَّيْتُ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَخْرِمُ عَنْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ شَيْخٌ لِأَبِي نُعَيْمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہاں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے لوگ ان کے سر رکھنے سے پہلے اپنے سر رکھ رہے تھے ، اور ان کے سر کو اٹھانے سے پہلے اپنے سر اٹھا رہے تھے جب انہوں نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بولے : اے لوگو ! تم لوگوں نے امام کیوں مقرر کیا ہے ، اور تم کیوں مقتدی بنے ہو میں تم لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہوں ، اور میں اس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کر رہا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ انصاری ہے ، جو ابونعیم کا استاد ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ انصاری ہے ، جو ابونعیم کا استاد ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔