حدیث نمبر: 2420
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَعُودَ رَأْسُهُ رَأْسَ كَلْبٍ، وَلَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ مِنْهَا إِسْنَادٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے کیا وہ اس بات سے ( خود کو ) محفوظ سمجھتا ہے کہ اس کے سر کو کتے کے سر میں تبدیل کر دیا جائے لوگ اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے یا تو باز آ جائیں گے یا ان کی بینائی اچک لی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے کچھ اسناد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔