مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُدْرِكُ مَعَ الْإِمَامِ وَمَا فَاتَهُ . باب: اس شخص کا بیان جو امام کے ساتھ کچھ نماز پا لیتا ہے ، اور کچھ نماز فوت ہو جاتی ہے
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ خَلَا قَوْلَهُ : " صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ صف سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تعالی تمہاری حرص میں اضافہ کرے لیکن تم دوبارہ ایسا نہ کرنا جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کر لینا اور جو پہلے گزر چکی ہو اس کی قضا کر لینا ( یعنی بعد میں ادا کر لینا ) ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لینا اور جو پہلے گزر چکی ہو اس کی قضا کر لینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق احادیث نماز کی طرف چل کر جانے سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔