مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ هَلْ يُصَلَّى غَيْرُهَا ؟ باب: جب نماز کھڑی ہو جائے تو کیا کوئی دوسری نماز ادا کی جا سکتی ہے ؟
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِلَالٌ يُقِيمُ الصَّلَاةَ فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَقَالَ لَهُ : " أَصَلَاتَانِ مَعًا ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكَرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ فِيمَا لَهُ سَبَبٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مسجد میں ) داخل ہوئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے اقامت کہہ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو اس سے فرمایا : کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا رہی ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی ، جس میں ان اوقات کا تذکرہ ہے جن میں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ، اس میں اس حکم کا سبب بیان ہو گا اگر اللہ نے چاہا ۔