کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو امام کے ساتھ کچھ نماز پا لیتا ہے ، اور کچھ نماز فوت ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 2399
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ خَلَا قَوْلَهُ : " صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ صف سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تعالی تمہاری حرص میں اضافہ کرے لیکن تم دوبارہ ایسا نہ کرنا جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کر لینا اور جو پہلے گزر چکی ہو اس کی قضا کر لینا ( یعنی بعد میں ادا کر لینا ) ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لینا اور جو پہلے گزر چکی ہو اس کی قضا کر لینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق احادیث نماز کی طرف چل کر جانے سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق احادیث نماز کی طرف چل کر جانے سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2400
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : فِي الَّذِي يَفُوتُهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ قَالَ : يَجْعَلُ مَا يُدْرِكُ مَعَ الْإِمَامِ آخِرَ صَلَاتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جس کی نماز کا کچھ حصہ امام کی اقتداء میں فوت ہو جاتا ہے وہ فرماتے ہیں : امام کے ساتھ جو نماز اس نے پائی تھی اسے وہ اپنی نماز کا آخری حصہ بنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2401
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ جُنْدُبًا وَمَسْرُوقًا أَدْرَكَا رَكْعَةً - يَعْنِي : مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ - فَقَرَأَ جُنْدُبٌ وَلَمْ يَقْرَأْ مَسْرُوقٌ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَا يَقْضِيَانِ فَجَلَسَ مَسْرُوقٌ فِي الثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ ، وَقَامَ جُنْدُبٌ فِي الثَّانِيَةِ وَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَا تَذَاكَرَا ذَلِكَ فَأَتَيَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : كُلٌّ قَدْ أَصَابَ أَوْ قَالَ : كُلٌّ قَدْ أَحْسَنَ ، وَاصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ مَسْرُوقٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ بَعْضِهَا سَاقِطٌ مِنْهُ رَجُلٌ ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ جندب اور مسروق ( یہ دونوں تابعی ہیں ) انہوں نے ایک رکعت پائی راوی کہتے ہیں : یعنی مغرب کی نماز کی ایک رکعت امام کی اقتداء میں پائی ( تو باقی رہ جانے والی نماز کو ادا کرتے ہوئے ) جندب نے تلاوت کی اور مسروق نے امام کے پیچھے تلاوت کی جب امام نے سلام پھیر دیا تو یہ دونوں صاحبان اٹھ کر گزر جانے والی نماز ادا کرنے لگے ، تو مسروق دوسری رکعت کے بعد بھی بیٹھے اور تیسری رکعت کے بعد بھی بیٹھے جب کہ جندب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اور نہیں بیٹھے جب ان دونوں نے نماز مکمل کر لی تو ان کی اس مسئلہ کے بارے میں بات چیت ہوئی ، تو یہ دونوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے ٹھیک کیا ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تم دونوں نے اچھا کیا ہے ، لیکن میں اس طرح کرتا جس طرح مسروق نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ساقط ہے ، اور اس سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے زیادہ تر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ساقط ہے ، اور اس سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے زیادہ تر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔