کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب نماز کھڑی ہو جائے تو کیا کوئی دوسری نماز ادا کی جا سکتی ہے ؟
حدیث نمبر: 2391
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أُسْطُوَانَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں : نماز کے لئے اقامت کہہ دی گئی اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک ستون کی طرف بڑھے انہوں نے دو رکعات ادا کیں پھر وہ نماز میں شریک ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2392
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : جَاءَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَالْإِمَامُ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى سَارِيَةٍ وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوموسی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ( یعنی مسجد میں ) تشریف لائے امام نے صبح کی نماز پڑھانی شروع کر دی تھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ستون کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں انہوں نے فجر کی دو رکعات ( یعنی سنتیں ) ادا نہیں کی ہوئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2393
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بَعَثَ إِلَى حُذَيْفَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُهُمَا عَنِ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ فَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الْفَجْرِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَأَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يُدْرِكْ حُذَيْفَةَ وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے عید کے دن نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو فجر کی نماز کے لئے اقامت ہو چکی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ابواسحاق نامی راوی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
حدیث نمبر: 2394
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا صَلَّى رَكْعَتِي الْغَدَاةِ حِينَ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَغَمَزَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْكِبَهُ وَقَالَ : " أَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ ذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مؤذن کے اقامت کہہ دینے کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے کندھے پر ٹہوکا دیا اور فرمایا : یہ اس سے پہلے نہیں ادا کی جا سکتی تھیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2395
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْغَدَاةِ فَنَهَضْتُ أُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي فَجَذَبَنِي وَقَالَ : " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے لئے اقامت کہہ دی گئی میں اٹھا تاکہ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات ( سنتیں ) ادا کر لوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا اور ارشاد فرمایا : کیا تم صبح کی نماز میں چار رکعات ادا کرو گے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2396
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَا يَنْفَرِدُ وَحْدَهُ بِصَلَاةٍ وَلَكِنْ يَدْخُلُ مَعَ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو مسجد میں داخل ہو اور امام اس وقت کھڑا ہوا نماز پڑھا رہا ہو تو اب وہ شخص تنہا نماز ادا نہیں کرے گا بلکہ وہ امام کی اقتداء میں نماز میں شریک ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یحیی بابلتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2397
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ رَكْعَتِي الْفَجْرِ فَقَالَ : " صَلَاتَانِ مَعًا ؟ ! " وَنَهَى أَنْ تُصَلَّيَا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ : وَالْأَصَحُّ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْقَطَّانِ، وَقَالَ عَبْدُ الْحَقِّ : الْغَالِبُ عَلَى رِوَايَتِهِ الْوَهْمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جب نماز کے لئے اقامت کہی جا چکی تھی آپ نے کچھ لوگوں کو فجر کی سنتیں پڑھتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا رہی ہیں ؟ پھر آپ نے اس بات سے منع کیا کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جا چکی ہو ، تو اس وقت نماز ادا کی جائے ( یا ان دو سنتوں کو ادا کیا جائے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اسے شریک بن ابونمر نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : زیادہ مستند یہ ہے کہ یہ شریک کے حوالے سے ابوسلمہ سے ” مرسل “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن محمد بن عثمان بن ربیعہ ہے ، جسے ابن قطان نے ضعیف قرار دیا ہے عبدالحق کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ روایت پر وہم غالب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2398
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِلَالٌ يُقِيمُ الصَّلَاةَ فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَقَالَ لَهُ : " أَصَلَاتَانِ مَعًا ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكَرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ فِيمَا لَهُ سَبَبٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مسجد میں ) داخل ہوئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے اقامت کہہ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو اس سے فرمایا : کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا رہی ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی ، جس میں ان اوقات کا تذکرہ ہے جن میں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ، اس میں اس حکم کا سبب بیان ہو گا اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2398
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح بشواهده