مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
حدیث نمبر: 2379
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَخَلْفَ عُثْمَانَ وَخَلْفَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فِي تَمَامٍ ]. ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ . ¤محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے ، لیکن ان میں سے کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر مگر مکمل نماز ادا نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔