مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ قَالَ : كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَةِ مَا لَكَ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ قَالَ : إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ قُلْتُ : فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ؟ " فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ ، وَكَانَ يَمْكُثُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثَلَاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ابراہیم بن یزید تیمی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ہمارے ساتھ نماز ادا کرنے کو ترک کر دیا میں نے ان سے کہا: اے ابا جان ! آپ نے ہمارے ساتھ نماز ادا کرنے کو ترک کیوں کر دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم لوگ مختصر نماز ادا کرتے ہو ، میں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کیا مراد ہو گا ؟ ” تم لوگوں کے درمیان ضعیف عمر رسیدہ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں “ ۔ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، لیکن اس کے باوجود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع اور سجود میں تم لوگوں کی بہ نسبت تین گنا زیادہ دیر تک ٹھہرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔