کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
حدیث نمبر: 2361
عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً بِالنَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ وَفِي رِوَايَةٍ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ : اللَّيْثِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : الْبَكْرِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوواقد کندی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران جس میں ان کا انتقال ہوا ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے ، اور تنہا نماز ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ طویل نماز ادا کرتے تھے ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوواقد بدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے لفظ ” لیثی “ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے لفظ ” بکری “ نقل کیا ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوواقد بدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے لفظ ” لیثی “ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے لفظ ” بکری “ نقل کیا ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2362
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أُصَلِّ خَلَفَ إِمَامٍ كَانَ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْهُ فِي تَمَامِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں حصہ لیا میں نے ایسے کسی امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو رکوع اور سجود مکمل کرنے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2363
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا لِلصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مختصر نماز پڑھاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2364
وَلَهُ عِنْدُهُ فِي رِوَايَةٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مختصر ، لیکن مکمل نماز پڑھاتے تھے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2365
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَجْدَةٌ مِنْ سُجُودِ هَؤُلَاءِ أَطْوَلُ مِنْ ثَلَاثِ سَجَدَاتٍ مِنْ سُجُودِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ان ( یعنی موجودہ زمانے کے اماموں ) کے سجدوں میں سے ایک سجدہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدوں میں سے تین سجدوں سے زیادہ طویل ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2366
وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِكُمْ ؟ قَالَ : وَمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ صَلَاتِي ؟ قُلْتُ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ : نَعَمْ ، وَأَوْجَزُ، قَالَ : وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
ابوخالد والبی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح آپ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں میری نماز کا کون سا حصہ منکر لگا ہے ؟ میں نے کہا: میں نے آپ سے اس بارے میں صرف سوال کرنے کا ارادہ کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اتنا ہوتا تھا کہ جتنی دیر میں مؤذن منارے سے نیچے اتر کر صف میں شامل ہو جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2367
وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ صَلَّى صَلَاةً تَجَوَّزَ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى أَبُو يَعْلَى الْأَوَّلَ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ منقول ہے : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھاتے ہوئے مختصر نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے پہلی والی روایت نقل کی ہے : ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے پہلی والی روایت نقل کی ہے : ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2368
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً لَوْ صَلَّاهَا أَحَدُكُمُ الْيَوْمَ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایسی نماز ادا کرتے تھے کہ اگر آج تم میں سے کوئی اس طرح نماز پڑھائے تو تم لوگ اس پر اعتراض کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2369
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : مَنْ أَمَّنَا فَلْيُتْمِمِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ؛ فَإِنَّ فِينَا الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ الْمَرِيضَ وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ وَذَا الْحَاجَةِ ، هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص ہماری امامت کرے اسے رکوع اور سجود مکمل کرنے چاہیں کیونکہ ہمارے درمیان ضعیف عمر رسیدہ بیمار مسافر اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اسی طرح نماز ادا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2370
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَةً ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ : إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَقَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ ، أَفَعَجِلَ عَنْ صَلَاتِهِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلَةٍ ! قَالَ : فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ : ¤ " أَفَتَّانٌ أَنْتَ ، أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمُ ، اقْرَأْ بِسَبِّحِّ اسْمَ رَبِّكَ ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے افراد کی امامت کر رہے تھے اسی دوران حرام نامی ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنی کھجوروں کو پانی دیں گے وہ مسجد میں داخل ہوئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیں جب انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کو طول دے رہے ہیں تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے چلے گئے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے نماز کو طول دیا ہے ، تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں پانی دینے چلے گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے کیا اس نے کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز میں جلدی کی تھی ؟ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے کھجوروں کے باغ کو پانی دوں گا میں مسجد میں داخل ہوا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لوں جب انہوں نے نماز کو طول دیا تو میں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلا گیا تاکہ وہاں پانی دوں ان کا یہ کہنا ہے کہ میں منافق ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم آزمائش کا شکار کرتے ہو ؟ تم ان کو نماز پڑھاتے ہوئے طویل نماز نہ پڑھاؤ تم سورہ الاعلیٰ سورہ والشمس اور اس جیسی دیگر سورتوں کی تلاوت کیا کرو !
یہ روایت امام أحمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2371
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يُقَالُ لَهُ : سُلَيْمٌ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَأْتِينَا بَعْدَ مَا نَنَامُ وَنَكُونُ فِي أَعْمَالِنَا بِالنَّهَارِ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةَ ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَا تَكُنْ فَتَّانًا، إِمَّا أَنْ تُصَلِّيَ مَعِي وَإِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلَى قَوْمِكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا سُلَيْمُ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ، وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَهَلْ تَعْتَبِرُ دَنْدَنَتِي وَدَنْدَنَةَ مُعَاذٍ إِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَنَعُوذَ بِهِ مِنَ النَّارِ ؟ " قَالَ سُلَيْمٌ : سَتَرَوْنَ غَدًا إِذَا الْتَقَى الْقَوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : وَالنَّاسُ يَتَجَهَّزُونَ إِلَى أُحُدٍ فَخَرَجَ فَكَانَ فِي الشُّهَدَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَمُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ لَمْ يُدْرِكِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ; لِأَنَّهُ اسْتُشْهِدَ بِأُحُدٍ وَمُعَاذٌ تَابِعِيٌّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَلَمَةَ . ¤
محمد محی الدین
معاذ بن رفاعہ ، بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے سلیم نامی ایک صاحب کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس اس وقت آتے ہیں جب ہم سو چکے ہوتے ہیں کیونکہ ہم نے دن کے وقت کام کاج کرنا ہوتا ہے پھر یہ نماز کے لئے اذان دیتے ہیں پھر ہم نکل کر ان کی طرف جاتے ہیں تو یہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ بن جبل ! تم فتنے کا شکار کرنے والے نہ بننا ، یا تو تم میری اقتداء میں نماز ادا کر لیا کرو ، یا یہ ہے کہ اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے مختصر نماز پڑھاؤ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اسے سلیم تمہیں کتنا قرآن آتا ہے انہوں نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگتا ہوں ، اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں اللہ کی قسم میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرح عمدہ طریقے سے دعا نہیں کر سکتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اور معاذ بھی جو دعا کرتے ہیں وہ بھی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالی سے جنت کی دعا مانگتے ہیں ، اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں تو سیدنا سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ کل دیکھیں گے کہ جب دشمن کا سامنا ہو گا ، تو اگر اللہ نے چاہا تو پھر چیز سامنے آ جائے گی راوی بیان کرتے ہیں : ان دنوں لوگ غزوہ اُحد کی تیاری کر رہے تھے انہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہونے والوں میں شامل ہوئے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے معاذ بن رفاعہ نامی راوی نے اس شخص کا زمانہ نہیں پایا جس کا تعلق بنو سلمہ سے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحابی غزوہ اُحد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ، اور معاذ بن رفاعہ تابعی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ کہ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے معاذ بن رفاعہ نامی راوی نے اس شخص کا زمانہ نہیں پایا جس کا تعلق بنو سلمہ سے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحابی غزوہ اُحد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ، اور معاذ بن رفاعہ تابعی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ کہ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2372
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ أُبَيٌّ يُصَلِّي بِأَهْلِ قُبَاءَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةً طَوِيلَةً ، وَدَخَلَ مَعَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا سَمِعَهُ قَدِ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ طَوِيلَةٍ انْفَتَلَ الْغُلَامُ مِنْ صَلَاتِهِ وَكَانَ يُرِيدُ أَنْ يُعَالِجَ نَاضِحًا يَسْقِي لَهُ فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ لَهُ الْقَوْمُ : إِنَّ فُلَانًا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلَاةِ فَغَضِبَ أُبَيٌّ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو الْغُلَامَ ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ يَشْكُو إِلَيْهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رُئِيَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ : ¤ " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَوْجِزُوا فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی رضی اللہ عنہ اہل قباء کو نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے طویل سورت کی قرأت شروع کر دی ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی نماز میں شامل تھا جب اس نے یہ سنا کہ انہوں نے ایک طویل سورت شروع کر دی ہے ، تو وہ شخص نماز سے الگ ہوا ، اس نے اپنی اونٹنی کو تیار کرنا تھا تاکہ اس کے ذریعے پانی دے جب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو لوگوں نے انہیں بتایا : فلاں شخص نماز چھوڑ کر چلا گیا ہے ، تو سیدنا ابی غصے میں آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس لڑکے کے بارے میں شکایت کی پھر وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے یہاں تک کہ غصے کے اثار آپ کے چہرہ سے محسوس ہونے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو متنفر کرتے ہیں جب تم لوگ نماز پڑھاؤ تو مختصر نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے پیچھے ضعیف عمر رسیدہ بیمار اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2373
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيٌّ أُخْبِرَ بِذَلِكَ قَالَ : فَعَرَفَ أُبَيٌّ أَنَّ الْغُلَامَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرِّبَ الْغُلَامُ يَشْكُو أُبَيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَوْحِرُوا أَوْ فَأَوْجِزُوا " - شَكَّ أَبُو يَحْيَى أَوْ كَمَا قَالَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں اس بارے میں بتایا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا اُبی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرے گا اس لڑکے نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ متنفر کرنے والے ہیں ، جب تم لوگ نماز پڑھاؤ تو مختصر نماز پڑھاؤ ! یہاں ایک لفظ کے بارے میں ابویحیی نامی راوی کو شک ہے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابوزرعہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2374
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَرَّ حَزْمُ بْنُ أَبِي كَعْبِ بْنِ أَبِي الْقَيْنِ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمِهِ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ طَوِيلَةٍ وَمَعَ حَزْمٍ نَاضِحٌ لَهُ ، فَتَأَخَّرَ فَصَلَّى فَأَحْسَنَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَتَى نَاضِحَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ مِنْ صَالِحِ مَنْ هُوَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا - قَالَهَا ثَلَاثًا - إِنَّهُ يَقُومُ وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حزم بن ابوکعب بن ابوالفین کا گزر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنی قوم کو عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے طویل سورت کی قرأت شروع کر دی حزم کے ساتھ ان کی اونٹنی بھی تھی وہ پیچھے ہٹے اور انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور اچھے طریقے سے ادا کی پھر وہ اپنی اونٹنی کے پاس آ گئے بعد میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں بتایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اُن کی طرف والی چیز سے زیادہ موزوں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم آزمائش کا شکار کرنے والے ہرگز نہ بننا ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ ضعیف کام کاج والے اور بیمار لوگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2375
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ صَلَاةً أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تَمَامٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے کسی کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر مگر مکمل نماز ادا کرتا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2376
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تَمَامٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر مگر مکمل نماز ادا کرتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2377
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَنِي إِلَى ثَقِيفٍ : " تَجَوَّزْ فِي الصَّلَاةِ يَا عُثْمَانَ ، وَأُمَّ النَّاسِ بِأَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ وَالْحَامِلَ وَالْمُرْضِعَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : "وَالْمُرْضِعَ وَالْحَامِلَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے ثقیف قبیلے کی طرف بھیجا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! نماز مختصر ادا کرنا اور لوگوں کی امامت ان میں سے سب سے زیادہ ضعیف شخص کے حوالے سے کرنا کیونکہ لوگوں میں ضعیف کام کاج والے افراد حاملہ عورتیں اور دودھ پلانے والی عورتیں ہوتی ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” دودھ پلانے والی اور حاملہ عورتیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” دودھ پلانے والی اور حاملہ عورتیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2378
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ قَالَ : كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَةِ مَا لَكَ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ قَالَ : إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ قُلْتُ : فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ؟ " فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ ، وَكَانَ يَمْكُثُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثَلَاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن یزید تیمی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ہمارے ساتھ نماز ادا کرنے کو ترک کر دیا میں نے ان سے کہا: اے ابا جان ! آپ نے ہمارے ساتھ نماز ادا کرنے کو ترک کیوں کر دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم لوگ مختصر نماز ادا کرتے ہو ، میں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کیا مراد ہو گا ؟ ” تم لوگوں کے درمیان ضعیف عمر رسیدہ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں “ ۔ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، لیکن اس کے باوجود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع اور سجود میں تم لوگوں کی بہ نسبت تین گنا زیادہ دیر تک ٹھہرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2379
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَخَلْفَ عُثْمَانَ وَخَلْفَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فِي تَمَامٍ ]. ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے ، لیکن ان میں سے کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر مگر مکمل نماز ادا نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2380
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى مَجْلِسِهِمْ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ إِمَامُهُمْ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ فِي الْجُلُوسِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : مَنْ أَمَّنَا مِنْكُمْ فَلْيُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَإِنَّ خَلْفَهُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَذَا الْحَاجَةِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ تَقَدَّمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ وَأَتَمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَتَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ ، وَهُوَ عِنْدَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ وَرِجَالُ الْحَدِيثَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ لوگوں کی مجلس میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی ان کا امام آگے بڑھا اس نے نماز کے دوران طویل قعدہ کیا ، جب اس نے نماز مکمل کی تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں میں سے جو شخص ہماری امامت کرے وہ رکوع اور سجود مکمل کرے کیونکہ اس کے پیچھے چھوٹے بڑے مسافر بیمار کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں جب نماز کا وقت ہوا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ آگے بڑھے انہوں نے رکوع اور سجود مکمل کیے لیکن انہوں نے نماز مختصر پڑھائی جب وہ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسی طرح نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے وہ روایت پہلے گزر چکی ہے ان دونوں احادیث کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے وہ روایت پہلے گزر چکی ہے ان دونوں احادیث کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2381
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مختصر نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے پیچھے ضعیف عمر رسیدہ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2382
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَكْعَتَانِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفُّ مِنْ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاتِكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی دو رکعات تم لوگوں کی نماز کی ایک رکعت سے زیادہ مختصر ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2383
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ نماز پڑھاتے ہوئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مختصر کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2384
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتَ الصَّبِيِّ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ فَأُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بعض اوقات میں کسی بچے کی آواز سنتا ہوں میں اس وقت نماز پڑھا رہا ہوتا ہوں ، لیکن میں نماز مختصر کر دیتا ہوں ، اس اندیشہ کے تحت کہ کہیں اس کی ماں آزمائش کا شکار نہ ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2385
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " إِنَّمَا عَجَّلْتُ - أَوْ أَسْرَعْتُ - لِتَفْرَغَ أُمُّ الصَّبِيِّ إِلَى صَبِيِّهَا " وَسَمِعَ صَوْتَ الصَّبِيِّ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ : " إِنِّي لَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُخَفِّفُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے قرآن کی دو مختصر سورتیں تلاوت کیں جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے جلدی اس لئے کی ہے تاکہ بچوں کی ماں اپنے بچے کے لئے فارغ ہو جائے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کے ( رونے کی ) آواز سنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” بعض اوقات میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔