مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَنِي إِلَى ثَقِيفٍ : " تَجَوَّزْ فِي الصَّلَاةِ يَا عُثْمَانَ ، وَأُمَّ النَّاسِ بِأَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ وَالْحَامِلَ وَالْمُرْضِعَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : "وَالْمُرْضِعَ وَالْحَامِلَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے ثقیف قبیلے کی طرف بھیجا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! نماز مختصر ادا کرنا اور لوگوں کی امامت ان میں سے سب سے زیادہ ضعیف شخص کے حوالے سے کرنا کیونکہ لوگوں میں ضعیف کام کاج والے افراد حاملہ عورتیں اور دودھ پلانے والی عورتیں ہوتی ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” دودھ پلانے والی اور حاملہ عورتیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔