مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيٌّ أُخْبِرَ بِذَلِكَ قَالَ : فَعَرَفَ أُبَيٌّ أَنَّ الْغُلَامَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرِّبَ الْغُلَامُ يَشْكُو أُبَيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَوْحِرُوا أَوْ فَأَوْجِزُوا " - شَكَّ أَبُو يَحْيَى أَوْ كَمَا قَالَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤ان کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں اس بارے میں بتایا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا اُبی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرے گا اس لڑکے نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ متنفر کرنے والے ہیں ، جب تم لوگ نماز پڑھاؤ تو مختصر نماز پڑھاؤ ! یہاں ایک لفظ کے بارے میں ابویحیی نامی راوی کو شک ہے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابوزرعہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔