مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَرَّ حَزْمُ بْنُ أَبِي كَعْبِ بْنِ أَبِي الْقَيْنِ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمِهِ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ طَوِيلَةٍ وَمَعَ حَزْمٍ نَاضِحٌ لَهُ ، فَتَأَخَّرَ فَصَلَّى فَأَحْسَنَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَتَى نَاضِحَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ مِنْ صَالِحِ مَنْ هُوَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا - قَالَهَا ثَلَاثًا - إِنَّهُ يَقُومُ وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حزم بن ابوکعب بن ابوالفین کا گزر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنی قوم کو عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے طویل سورت کی قرأت شروع کر دی حزم کے ساتھ ان کی اونٹنی بھی تھی وہ پیچھے ہٹے اور انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور اچھے طریقے سے ادا کی پھر وہ اپنی اونٹنی کے پاس آ گئے بعد میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں بتایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اُن کی طرف والی چیز سے زیادہ موزوں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم آزمائش کا شکار کرنے والے ہرگز نہ بننا ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ ضعیف کام کاج والے اور بیمار لوگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔