حدیث نمبر: 2372
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ أُبَيٌّ يُصَلِّي بِأَهْلِ قُبَاءَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةً طَوِيلَةً ، وَدَخَلَ مَعَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا سَمِعَهُ قَدِ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ طَوِيلَةٍ انْفَتَلَ الْغُلَامُ مِنْ صَلَاتِهِ وَكَانَ يُرِيدُ أَنْ يُعَالِجَ نَاضِحًا يَسْقِي لَهُ فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ لَهُ الْقَوْمُ : إِنَّ فُلَانًا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلَاةِ فَغَضِبَ أُبَيٌّ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو الْغُلَامَ ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ يَشْكُو إِلَيْهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رُئِيَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ : ¤ " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَوْجِزُوا فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی رضی اللہ عنہ اہل قباء کو نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے طویل سورت کی قرأت شروع کر دی ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی نماز میں شامل تھا جب اس نے یہ سنا کہ انہوں نے ایک طویل سورت شروع کر دی ہے ، تو وہ شخص نماز سے الگ ہوا ، اس نے اپنی اونٹنی کو تیار کرنا تھا تاکہ اس کے ذریعے پانی دے جب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو لوگوں نے انہیں بتایا : فلاں شخص نماز چھوڑ کر چلا گیا ہے ، تو سیدنا ابی غصے میں آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس لڑکے کے بارے میں شکایت کی پھر وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے یہاں تک کہ غصے کے اثار آپ کے چہرہ سے محسوس ہونے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو متنفر کرتے ہیں جب تم لوگ نماز پڑھاؤ تو مختصر نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے پیچھے ضعیف عمر رسیدہ بیمار اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن؛ کیونکہ حافظ ابن حجر نے ابو یعلیٰ کی اس سند کو حسن قرار دیا ہے۔